عمران کی اجازت سے وزیراعلیٰ کے پی کے کی امریکی سفیر سے ملاقات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اجازت سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پاکستان میں متعین امریکا کے سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی، محمود خان کی خواہش پر ہونے والی اس ملاقات سے تحریک انصاف کے امریکی سازش کے بیانیے کا کھوکھلا پن ظاہر ہوگیا ہے، عمران خان راحت حاصل کرنے کیلئے ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں ، بنی گالہ میں کالے بکرے مسلسل ذبح کئے جارہے ہیں اور ساتھ ہی عملیات پر بھی زور ہے ، عمران خان جادوئی ہتھکنڈے کی تلاش میں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں متعین امریکا کے سفیر ڈونلڈ بلوم کی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے و الے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی ملاقات سے امریکی سازش کے ذریعے تحریک انصاف حکومت کی برطرفی کے بیانیے کا کھوکھلاپن ظاہر کردیا ہے۔ ملاقات جمعرات کو پشاور میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اجازت سے ہوئی جنہوں نے اپنے وزیراعلی کوامریکی سفیر سے معاملات کو درست کرنے کے لئے کردارادا کرنے کی استدعا کی ہے۔ امریکی سفیر درہ خیبرکی سیاحت اور طورخم کی سرحد دیکھنے کے لئے گئے تھے اور پشاور میں موجود تھے۔

حد درجہ قابل اعتماد سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ملاقات صوبائی وزیراعلیٰ محمود خان کی درخواست پر ہوئی ہے جس کے اختتام پر 32؍ لفظوں پر مشتمل روایتی بیان ٹویٹر سے جاری ہوا جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے اقتصادی ترقی، تجارت، تعلیمی سانجھے داری اور سرمایہ کاری میں امریکا کے پاکستان سے تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال ہے جس سے خطے اور اس کے عوام کو مدد ملی ہے تحریک انصاف کاامریکی سفیر سے مارچ کے مہینے کے بعد یہ اعلانیہ اولین اعلی سطح رابطہ ہے مارچ میں اپنی ملکی سیاست کے لئے عمران خان نے اچانک امریکا کے خلاف مخاصمانہ مہم شروع کردی تھی۔ قبل ازیں وہ ڈیڑھ سال تک امریکی صدر جوبائیڈن کے خیرسگالی فون کال کا انتظار کرتے رہے جس کے لئے انہوں نے بڑی سفارتی مساعی بھی کی اس میں ناکام رہے کہ انہیں وزارت عظمی سے نکال دیا گیا۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ خود عمران خان بھی آئندہ دنوں میں امریکی سفیر سے پوشیدہ یا کھلا رابطہ کریں تاکہ امریکا کےبارے میں اپنے تلخ تاثرکے لئے کوئی درمیان داری کرسکیں۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے عمران خان اور پوری تحریک انصاف کو بے اوسان کردیا ہے جس سے ملکی رائے عامہ میں ان کے تاثر کو سخت دھچکا لگاہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اس دروازے اورا ٓستانے پر دستک دے رہے ہیں جہاں سے انہیں کوئی راحت حاصل ہوسکے امریکی سفارتخانہ بھی ان میں سے ایک ہے ان کی خواہش ہے کہ ان کے سر پر لٹک رہی نا اہلی کی تلوار جوہر گزرتے دن کے ساتھ قریب تر ہورہی ہے کسی طرح اس سے نجات مل جائے وہ اپنے تمام بیانیوں سے رجوع کررہے ہیں ملک میں فوری انتخابات کرانے کامطالبہ اب انہیں یاد ہی نہیں رہا اسی طرح انہیں وہ ’’ممدوحین‘‘ بھی بھول گئے ہیں جنہیں برا بھلا کہہ کر اور دشنام کا ہدف بنا کر وہ اپنے ’’رستم زماں‘‘ ہونے کا تاثر دیتے تھے۔

جمعرات کی شام ان کا احتجاج بھی بہت پھیکا رہا اس میں عمران خان کی تقریر اپنی جماعت کے دیگر بڑوں سے کہیں کم تر درجےکا زور رکھتی تھی وہ نڈھال دکھائی دے رہے تھے سیاسی مبصرین نے یاد دلایا ہے کہ حالیہ مہینوں میں انہوںنے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی طاقت سے بڑھ کر گالم گفتار کی مہم چلائی تھی وہ بے اثر رہی اور الیکشن کمیشن نے بے خوف ہو کر فیصلہ صادر کیا۔ سوشل میڈیا پر رائے ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ دو روز قبل پاکپتن کے اس آستانے پر بھی سجدہ ریز دیکھے گئے جہاں سے ماضی میں انہیں کئی ’’کرامات‘‘ ملی تھیں مذہب سے لگائو رکھنے والے بعض حلقوں میں جہاں ان کےسجدے کے بارے میں سخت تحفظات ظاہر کئے جارہے ہیں وہاں جمعرات کوان کے تحریک انصاف فیم احتجاج میں گیت گانوں کی بھرمارنے محرم الحرام کے حزن و ملال میں ڈوبے فرزندان توحید کی دل آزاری بھی کی ہے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنا تاریک مستقبل نوشتہ دیوار کی طرح دکائی دے رہاہے جس سے بچ نکلنے کے لئے انہیں کسی جادوئی ہتھکنڈے کی تلاش ہے اس سلسلےمیں وہ کسی بھی حد تک جانے اور رجعت قہقہری کے لئے تیار ہیں ایسی کیفیت میں وہ خودکے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں اس اطلاع پر حیرت ظاہر کی جارہی ہے کہ بنی گالہ میں کالے بکرے مسلسل ذبح کئے جارہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کی دوسری عملیات پر بھی کام ہورہا ہے دوسری جانب تحریک انصاف کے حلقوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے عدالت سے جلد فیصلہ آئے گا

جس میں تحریک انصاف کے خلاف اٹھائے گئے مواد کوعدالت باہر پھینک دے گی اور انتخابات فوری کرانے کے مطالبے پر زور دیا جائے گا ورنہ عوام سڑکوں پر ہونگے۔ امریکی سفیر سے ملاقات کے لئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کی خواہش ظاہر کئے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے حلقوں نے لاعلمی ظاہر کی اور بتایا کہ وہ اس سلسلے میں دریافت کرکے آگاہ کرتے ہیں جس کے بعد ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا وہ رات گئے تک عدم دستیاب رہے۔ امریکی سفیر اب واپس اسلام آباد آگئے ہیں امریکی سفارتخانے کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایسی نجی سفارتی ملاقاتوں کے بارے میں تبصرہ آرائی نہیں کرتے۔