ملک میں نئی موٹرویز کی تعمیر پر کام شروع کر دیا گیا

اسلام آباد(اے پی پی)وفاقی سیکرٹری مواصلات وچیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد خرم آغا نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے وزارت مواصلات نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ملک میں نئی موٹر ویز تعمیر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جس پر این ایچ اے نے کام شروع کر دیا ہے، پشاور سے لے کر کراچی تک ماسوائے سکھر۔

حیدرآباد موٹر وے ، تمام موٹرویز آپریشنل ہیں۔موٹرویز نیٹ ورک کے ساتھ ہر پچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر سروس ایریا کی سہولت فراہم کی جائے گی، نئی تعمیر ہونے والی موٹر ویز پر رفتار کی حد 120کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں مواصلاتی منصوبوں اور پروکیورمنٹ پراسیس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی سیکرٹری مواصلات وچئیرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حکومت نے وزارت مواصلات نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ملک میں نئی موٹر ویز تعمیر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جس پر این ایچ اے نے کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور سے لے کر کراچی تک ، ماسوائے سکھر۔ حیدرآباد موٹر وے ، تمام موٹرویز آپریشنل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ موٹرویز نیٹ ورک کے ساتھ ہر پچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر سروس ایریا کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعمیر ہونے والی موٹر ویز پر رفتار کی حد 120کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی ۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے آغاز میں چئیرمین کمیٹی سینٹر پرنس احمد عمر احمد زئی نے وفاقی سیکرٹری کیپٹن(ر) محمد خرم آغا کو حالیہ مون سون کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں روڈ نیٹ ورک کو کم سے کم وقت میں ٹریفک کے لئے کھلا رکھنے کے لئے این ایچ اے کے افسران اور ورکرز کی محنت اور کاوشوں پر تعریفی خط دیا ۔

واضح رہے کہ این ایچ اے کے ماہرین تعمیرات، انجئینرز اور ورکرز کی محنت کی بدولت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن میں آسانی پیدا ہوئی۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی سینٹر سیف اللہ ابڑو کی طرف سے سکھر۔ حیدرآباد موٹر وے کا ٹھیکہ دینے سے متعلق اٹھائے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے چئیرمین این ایچ اے نے کہا کہ اس موٹر وے کا ٹھیکہ ایوارڈ کرنے کے لئے تمام قواعد وضوابط پر پوری طرح عمل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیکہ پاکستان اور اٹلی کی تعمیراتی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم کو دیا گیا ہے ۔

پروکیورمنٹ پراسیس کے دوران اٹلی کی تعمیراتی فرم سے متعلق کچھ امور کی تصدیق مطلوب تھی جس کی کلئیرنس اٹلی کے سفارت خانے کے ذریعے حاصل کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ سے قبل اس منصوبے کا ملکی اور غیر ملکی سطح پر اخبار میں اشتہار دیا گیا جس کے تحت مطلوبہ اہلیت رکھنے والی تعمیراتی کمپنیوں کو بڈنگ کے عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فرم اور ایک اٹلی کی فرم پر مشتمل کنسورشیم نے اپلائی کیا ۔

قومی اہمیت کے اس منصوبے کو مزید شفاف بنانے کے لئے متعلقہ دستاویزات کی اٹلی کے سفارت خانے کے ذریعے اٹلی کی حکومت سے تصدیق بھی کرایا گیا ہے اور آزادانہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پیپرا قواعد و ضوابط کا بھی خیال رکھا گیا ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس منصوبے پر جلد تعمیری عمل شروع کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔