آرمی چیف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

راولپنڈی (ویب ڈیسک) سیلابی پانی میں کمی آنا شرو ع ہوگئی ہے لیکن ا س کے بعد وبائی امراض پھوٹ پڑی ہیں جس کے بارے میں پاک فوج کے سربراہ نے بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ سیلاب کی آفت کے بعد بیماریاں بھی بڑی عفریت بن کر سامنے آرہی ہیں، ڈینگی، ملیریا، سمیت دیگر بیماریاں دادو میں سامنے آ رہی ہیں، سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی یہ مسئلہ سامنے آ رہا ہے، اس کے لیے اضافی بٹالین میڈیکل متنقل کر رہے ہیں، جو سول اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، جب چیلنجز آتے ہیں تو وہاں پر اپروچیونٹی بھی سامنے آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ان آفت سے ہم نے کافی کچھ سیکھا ہے، آئندہ حکومت کے ساتھ مل کر اچھی پلاننگ کریں گے‘۔متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیا ہے اس وقت کوٹری بیراج سے پانچ لاکھ کا ریلا گزر رہا ہے، جس وقت دریائے سندھ میں پانی کم ہو جائے گا تو منچھر جھیل میں بھی پانی کم ہونا شروع ہو جائے گا، ابھی بھی کچھ علاقوں میں 8 سے 10 فٹ پانی موجود ہے، جو آہستہ آہستہ نیچے آنا شروع ہو جائے گا، خیر پور اور سکھر کے علاقے میں کچھ اور تدبیریں کرنی پڑیں گی، وہاں پر ڈی واٹرنگ اور پمپ لگانا پڑیں گے، انڈس میں اگر پانی کم ہوتا ہے تو منچھر جھیل میں بھی کمی آنا شروع ہو جائے گی، مستقبل میں بند توڑ کر پانی کا رخ اس طرف کر دیں گے، اس کے لیے ہمیں کافی پلاننگ کرنا پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے لیے چھوٹے ڈیم، واٹر سسٹم بنانا پڑے گا، تب جا کر ہی اس مسئلے کا حل نکلے گا، اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری، یو ایس ایڈ اور امریکی کانگریس کے لوگ بھی پاکستان آئے ہیں، انہیں بتایا کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے تاہم دنیا میں ہم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، 2010ء میں بھی بڑا سیلاب آیا تھا، 2022 میں ایک مرتبہ پھر سیلاب آیا، عالمی دنیا کے اثرات ہمیں بھگتنا پڑ رہے ہیں، ہمارے گلیشیئرز بھی پگھل رہے ہیں، پاکستان اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، پوری دنیا کو ملکر آگے آنا ہوگا اور مصیبت سے نمٹنا کے لیے کام کرنا پڑے گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اس کے لیے دنیا میں ابھی سے آوازیں اٹھانا شروع کر دی گئی ہیں

اگر اب کچھ نہ کیا گیا تو تمام دنیا کے لیے مسائل پیدا ہوں گے، اس سال پاکستان میں گرمی کے بعد ایک ساتھ ہی ماحول تبدیل ہو گیا، انگلینڈ میں کچھ مہینے پہلے گیا تھا وہاں پر بھی سخت گرمی تھی، وہاں پر بھی خشک سالی ہوئی ہے، موسمیاتی تبدیلی کا اثر پوری دنیا پر آرہا ہے، سیاچن میں ہمارے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، اس کے لیے ہم دنیا کو باور کروا رہے ہیں کہ ری نیو ایبل کی طرف جایا جائے ، ہائیڈرو کاربن کا استعمال کم سے کم کیا جائے، ہمیں تیل اور کوئلے سے بجلی بنانے کا عمل بھی کم کرنا ہو گا۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان میں مزید بڑے ڈیم بنانا پڑیں گے، کس جگہ پر بنانا پڑیں گے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، سوات سمیت دیگر جگہوں پر ڈیم بنانا پڑیں گے، تاکہ سیلاب سے بچنے کے علاوہ ہم بجلی بھی وافر بنا سکیں، گلوبل وارننگ کو بھی کنٹرول کرسکیں۔