انہوںنے پاکستانی پرچم کی توہین کی ، اتنے اہم ایریا میں افغانیوں کو بیٹھنے کی اجازت کس نے دی ؟اسلام آباد ایف 6میں لگے افغانوں کے کیمپ 15روز میں اکھاڑنے کی ہدایت

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو ایف6 میں لگے افغانوں کے کیمپ اکھاڑنے اور 15 دنوں میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے،چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا ہے کہ یہ سکیورٹی رسک ہے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی،اتنے اہم ایریا میں افغانیوں کو کس نے بیٹھنے کی اجازت دی،اس وقت سیلاب متاثرین کے زیادہ حقوق ہیں کیا ان کو یہاں کیمپ لگانے کی اجازت ہے؟

کمیٹی نے کریمنل لا ترمیمی بل 2022,کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2022, بچوں کی مزدوری کے حوالے سے بل 2022 کی متفقہ طور پر منظوری بھی دے دی۔ کمیٹی کا اجلاس گذشتہ روز چیئرمین محسن عزیز کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹر فوزیہ ارشد، سینیٹر رانا مقبول،سینیٹر مولا بخش چانڈیو سینیٹر کامل علی آغا،سینیٹر سیف ابڑو سینیٹر انور خان سینیٹر فیصل سلیم نے شرکت کی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کس نے افغانیوں کو پریس کلب کے سامنے بیٹھنے کی اجازت دی،سب سے زیادہ ذمہ دار وہ ہے ان کی ذمہ داری افغان ایمبسی پر ہے وہ دیکھے ان کو انسانی حقوق کے تحت اتنے اہم ایریا میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو کیا اپنے ملک کے سیلاب متاثرین کے زیادہ حقوق ہیں،کیا ہم ان کے کیمپ بھی ادھر لگوا دیں ، کمیٹی کو نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کیمپ لگانے والے جہلم کے رہائشی نے بتایا کہ میرا پریس کلب کے سامنے 4 سال سے احتجاجی کیمپ لگا ہوا ہے 2500 کے قریب افغان مہاجرین نے بھی کیمپ لگائے ہوئے ہیں انہوں نے پاکستانی جھنڈے کی بھی بے حرمتی کی،مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا

ارکانِ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میچ میں بھی افغانستان کے کھلاڑیوں کا رویہ درست نہیں تھا اور افغانستان تماشائیوں کی طرف سے پاکستانی تماشائیوں پر بھی تشدد کیا گیا یہ رویہ برداشت نہیں کیا جا سکتا،ہم نے انسانیت کی بنیاد پر افغانیوں کے ساتھ بہت تعاون کیا ہے لیکن ان کا رویہ ٹھیک نہیں ہے ہمارے ملک میں سیلاب کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں ان کے پاس کوئی رہنے کی جگہ نہیں ہے کیا سیلاب متاثرین کو ایف 6 میں کیمپ لگانے کی اجازت دی جائے گی اگر پاکستانیوں کو اجازت نہیں تو افغانیوں کو بھی یہاں سے اٹھایا جائے ان کو کس نے ایدھر بیٹھنے کی اجازت دی ہے یہ سیکورٹی رسک ہیں۔