سیاسی گہما گہمی ،پنجاب حکومت نے 9 ارب 69 کروڑ کے فنڈز ضائع کردئیے

لاہور (نیوز ڈیسک ) ملک بھر میں اور بالخصوص پنجاب میں جاری سیاسی گہما گہمی کے باعث پنجاب حکومت نے 9 ارب 69 کروڑ کے فنڈز ضائع کردئیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فنڈز عالمی بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بطور قرض جاری کئے تھے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے جاری سیاسی گہمہ گہمی کے باعث صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے غیر ملکی ڈونرز کی جانب سے دئیے گئے فنڈز بھی استعمال نہیں کئے اور یہ فنڈز بھی لیبز ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹیٹ بنک آف پاکستان نے فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور پی اینڈ ڈی بورڈ کو باقاعدہ آگاہ کردیا ہے۔دوسری جانب لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مزید سماعت 15 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے نیپرا کے وکیل سے مزید دلائل طلب کرلیے۔عدالت نے فیول ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حکم امتناعی میں 15 ستمبر تک توسیع کردی۔ درخواست میں وفاقی حکومت،واپڈا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ نیپرا بجلی کے بلوں میں ٹیکس غیر قانونی وصول کررہا ہے۔ بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیرقانونی اورغیرآئینی ہے،عوام 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل دینے پرمجبورہیں۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیرقانونی قراردیا جائے۔واضح رہے کہ 24 اگست کو لاہورہائیکورٹ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی وصولی سے روک دیا تھا جبکہ صارفین کو فیول ایڈجسمنٹ سرچارج نکال کر باقی بل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔