پٹرول کی قیمت میں 30روپے فی لیٹر اضافے کی خبر نے پاکستان میں کہرام برپا کر دیا ، کیا ہونے والا ہے ؟ 

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ماہر معاشیات مزمل اسلم نے کہا کہ اگر اکتوبر میں پٹرول پر سیلز ٹیکس لگتا ہے تو فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ ہو سکتا ہے ۔ سابق وزیر خزانہ اور سینیٹر شوکت ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا کہ ان کا پی ٹی آئی حکومت سے کیا اختلاف ہے ، نمبر ایک یہ کہ آپ نے پٹرول اور بجلی پر پانچ پانچ روپے سبسڈی کیوں دی ،

دوسر ایہ کہ انڈسٹری مالکان کو ایمنسٹی کیوں دی ، تیسرا آپ نے مارچ میں یا فروری میں دس فیصد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کیوں بڑھائیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جو عوام کو چاہئے تھیں جو پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیں لیکن اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاملہ طے کیا وہ آج کے اخبارات میں موجود ہے ، انہوں نے آئی ایم ایف کو کہا کہ اگر ہمیں کبھی لگا کہ ہم ٹیکسز وصول نہیں کر سکے تو فوری پٹرول پر ٹیکسز لگا دیں گے ۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سےPUANاور Formanکے ساتھ مل کر’فیک نیوز‘کے خلاف ٹریننگ کا انعقاد
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جو پروگرام حکومت نے طے کیا ہے وہ نہ صرف مشکل ترین بلکہ ناقابل عمل ہے ، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کا آؤٹ لک بہت ہی رسک والا ہے ۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کے ذمہ دو کام ہوتے ہیں اول کہ وہ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لائے ، دوسرا یہ کہ وہ گروتھ یعنی روزگار کے مواقع اور ملک میں ترقی لائے ، آئی ایم ایف نے مہنگائی کا تخمینہ 19.9 فیصد دیا ہے جو ماہ اگست میں 27.5 فیصد تھا، حکومت نے بجٹ میں گروتھ میں پانچ فیصد ترقی کا اعلان کیا تھا جبکہ آئی ایم ایف نے اس کو ساڑھے تین فیصد کہا ہے ، سیلاب کے بعد حکومت اسے دو فیصد پر لے کر جا رہی ہے ،

جس طریقے سے کارخانے بند ہوئے ، فصلیں خراب ہوئیں اس سال گروتھ منفی دو تک جائے گی ۔ مزمل اسلم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان میں مشکل وقت سیاسی عدم استحکام سے آیا، آئی ایم ایف نے جو جائزہ دیا وہ ساتواں اور اٹھواں ہے ، ساتواں جائزہ ہماری حکومت کا ہے جب شوکت ترین وزیر خزانہ اور عمران خان وزیر اعظم تھے جبکہ آٹھواں جائزہ موجودہ حکومت کا ہے ، ساتویں جائزے کے تما م اہداف حاصل کئے گئے ہیں جبکہ آٹھویں جائزہ میں بہت سے اہم اہداف کو حاصل نہیں کیا گیا ۔

مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے سیلز ٹیکس سے آئی ایم ایف کو منع کر دیا ہے ، سیلز ٹیکس سے تو عمران خان اور شوکت ترین نے منع کیا تھا ، اگر اکتوبر میں سیلز ٹیکس لگا تو پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے اضافہ ہو سکتا ہے ۔گیس کی 53 فیصد قیمت بڑھ رہی ہے ، یعنی جس گھر کا بل 5 ہزار آتا ہے تو اب وہ ساڑھے 13 ہزار آ سکتاہے ، اگر یہ ٹیکسزپورے نہیں کر سکے تو مزید ٹیکس لگا دیں گے ، یعنی پانچ منی بجٹ آچکے ہیں یہ چھٹا لے آئیں گے ۔