میں نے سوچا تھا کہ ہمارا پہلا بیٹا ہوا تو اس کا نام۔۔۔۔۔ شادی کے صرف 5 ہفتوں بعد کینسر کے مرض میں مبتلا نوجوان نے ٹوئٹر پر کیا پیغام بھیجا کہ سب ہی اس کی مدد کے لیے تیار ہو گئے

میں نے سوچا تھا کہ ہمارا پہلا بیٹا ہوا تو اس کا نام۔۔۔۔۔ شادی کے صرف 5 ہفتوں بعد کینسر

کے مرض میں مبتلا نوجوان نے ٹوئٹر پر کیا پیغام بھیجا کہ سب ہی اس کی مدد کے لیے تیار ہو گئے جب کوئی نوجوان شادی کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ عمر بھر ساتھ نبھائے۔ اس

کی فیملی میں اضافہ ہو وہ زندگی کی خوشیوں کو ایک ساتھ انجوائے کریں- ایسے ہی ایک نوجوان جس کا ٹوئٹر اکاونٹ [email protected]کے نام سے تھا اس نے اپنے اکاؤنٹ سے ایک جذباتی پکچر شئیر کی جس میں وہ ایک ہسپتال کے بیڈ پر اپنی

بیوی کے ساتھ نظر آرہا ہے- جس میں اس کا کہنا تھا کہ میں اور میری بیوی، ہماری پانچ ہفتوں پہلے شادی ہوئی ہے اور مجھے کینسر ہو گیا ہے جس کا مقابلہ ہم مل کر کر رہے ہیں- مگر محبت بیماری اور صحت سے ماورا ہوتی ہے میں اپنی بیوی کے ساتھ کا بہت شکر گزار ہوں

اس کے بغیر میں اس بیماری کا مقابلہ نہیں کر سکتا- ان کا یہ ٹوئٹ لاکھوں لوگوں نے نہ صرف لائک کیا بلکہ اس کو شئیر اور کمنٹ کر کے وائرل کر دیا اور ہر کوئی ان کے اس غم میں ان تکلیف کے لمحات میں ان کے ساتھ شریک ہو گیا- اسکائی ڈواگ نامی اس نوجوان کی

عمر صرف 22 سال ہے اس کا یہ کہنا ہے کہ شادی کے کچھ ہی دنوں کے بعد ایک دن جب وہ صبح جاگے تو ان کے ناک سے خون بہہ رہا تھا جو کہ ان کی ہر کوشش کے باوجود نہ رکا- جب اس حوالے سے انہوں نے ڈاکٹروں سےرجوع کیا تو ڈاکٹرز نے کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد

ان کو بتایا کہ وہ خون کے کینسر کی ایک قسم لیوکیمیا میں مبتلا ہیں- کینسر کے جاننے کے بعد ان کا پریشان ہونا ایک فطری عمل تھا مگر وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ کر سکیں- مگر لوگوں کے کمنٹس اور حوصلہ افزائی نے ان کو

اس بیماری سے لڑنے کا حوصلہ دیا- ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بون میرو کی وجہ سے وہ سخت تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں- ان کے اس ٹوئٹ کے جواب میں لوگوں نے ان کے ساتھ اپنی کینسر سے بچنے کی کہانیاں بھی شئير کیں جن کے حوالے سے اسکائی ڈواگ کا کہنا ہے کہ

اس کو بہت حوصلہ ملا ہے- مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کو علاج کے لیے کچھ مالی معاونت کی بھی ضرورت ہے جس کے لیے انہوں نے اپنا اکاونٹ نمبر بھی شئیر کیا اور لوگ اس نوجوان جوڑے کی دل کھول کر مدد کر رہے ہیں- اپنی حالت کے حوالے سے اسکائی ڈواگ

کا یہ بھی کہنا ہے کہ کل وہ گر گئے اور ان کو چوٹ آگئی-خوش قسمتی سے اس وقت ان کی بیوی ان کے پاس موجود تھی جس نے ان کو سنبھال لیا کیوں کہ اگر ان کو معمولی سی بھی چوٹ لگ جاتی تو جسم میں پلیٹیلٹس کی کمی کے سبب خون بہنا نہ رکتا جو جان لیوا بھی ثابت

ہو سکتا تھا- اپنی آئندہ زندگی کے حوالے سے انہوں نے ایک ٹوئٹ بھی کیا جس میں ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے گھر پہلی اولاد بیٹا ہو جس کا نام وہ اوہم رکھیں- اس بارے میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی بیوی کو یہ نام پسند نہ آئے مگر وہ اس

کو راضی کرنے کی پوری کوشش کریں گے- اسکائی ڈواگ کی کیموتھراپی شروع ہو چکی ہے ڈاکٹرز کے مطابق ان کا کینسر بہت پھیل چکا ہے مگر ان کو امید ہے کہ مریض کی ہمت اور حوصلے
سے وہ اس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے-